کاروار26؍فروری(ایس اؤ نیوز)ماہی گیروں اور عوام کی سخت مخالفت اور کڑے احتجاج کے چلتے ساگرمالا منصوبے کے تحت توسیع کئے جارہے کاروار تجارتی بندرگاہ کے کام کے ساتھ ساتھ انکولہ بیلکیری تجارتی بندرگاہ، کاروار آمدلی ماہی گیر بندرگاہ اور بھٹکل لائٹ ہاؤس کی ترقی کاکام بھی رک جانے کا شبہ جتایا جارہاہے۔
ریاست کے وزیر برائے بندرگاہ کوٹا شری نواس پجاری نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے 8بندرگاہوں کی ترقی کی جائےگی۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق 2018میں ہی اترکنڑا ضلع کے کاروار بیلکیری تجارتی بندرگاہ اور بھٹکل لائٹ ہاؤس کی ترقی کے لئے منصوبہ تشکیل دےکر مرکزی حکومت سے مالی تعاون کی منظوری لی گئی تھی ۔ کاروار بندرگاہ جنوب کی جانب 145میٹر اور شمال کی جانب 1160میٹر تحفظاتی دیوار تعمیر کرنےکے لئے 224کروڑ روپئے ، کارگو برت کی تعمیر کے لئے 61کروڑ روپئے ، بندرگاہ سے کیچڑ نکالنے کے لئے 50کروڑ روپئے سمیت کل 335کروڑروپئے مالیت والے منصوبے کو کوسٹل برت اسکیم کے تحت منظوری دی گئی تھی۔
کوسٹل کمیونٹی ڈیولپمنٹ : ساحلی پٹی ترقی منصوبے کے تحت ساحلی پٹی کے تینوں اضلاع میں اسکیل ڈیولپمنٹ کے لئے 1.52کروڑ روپئے منظور کئے گئے تھے۔جس میں 4ماہی گیر بندرگاہوں کی ترقی بھی شامل تھی۔ ان کے علاوہ 19کروڑ روپئے کی لاگت سےکاروار آمدلی ماہی گیر بندرگاہ کو ترقی دینے کےلئے ضروری اقدامات اٹھائے گئے تھے۔
انکولہ،بیلکیری بندرگاہ کی جدید ٹکنالوجی کے ذریعے ترقی دینے کے لئے 2783کروڑ روپئے منظور کئے گئے تھے۔ اسی طرح بھٹکل لائٹ ہاؤس اور کاروار اوئی اسٹار راک(لائٹ ہاؤس) ترقی کے لئے بھی اجازت دی گئی تھی، مگر اب ان کاموں کو کنارے لگادیاگیا ہے۔ منصوبےکے تحت صرف کاروار تجارتی بندرگاہ کی توسیع کی خاطر تحفظاتی دیوار کا تعمیراتی کام شروع کیا گیا تھا جس کی عوام اور ماہی گیروں کی جانب سے سخت مخالفت اور احتجاج کو دیکھتے ہوئے یہ کام بھی رکا ہوا ہے اور معاملہ عدالت میں ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ بیلکیری بندرگاہ کی ترقی کو پہلی ترجیح دینی چاہئے۔ لیکن 2018میں ہی منظوری دینےکے باوجود حکومت ابھی تک اس طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ عوام کی مانیں تو سیاحت کےلئے پرکشش بنانے کے لئے لائٹ ہاؤس کی ترقی کو بھلایا جاچکا تھا مگر اب کاروار آمدلی بندرگاہ کو بھی بھلا دیا گیا ہے۔
انکولہ ترقی مرکز کا کیا ہوا؟:ورلڈ کلاس کلسٹر پورٹ سٹیز کی تعمیر کے لئے بہت پہلے ایک منصوبہ تشکیل دیا گیا تھا، منصوبہ کے تحت زیادہ تر کام دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع میں کام کرنے کےلئے اقدامات کئے جارہے تھے جب کہ اس میں انکولہ بھی شامل تھا، ان سبھی کو خصوصی معاشی کلسٹر کہاجاتاہے۔ یہاں آپسی تال میل اور تعاون سے روزگار پیدا کرنا، صنعت کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کئی ساری سہولیات فراہم کرنا منصوبے کا مقصد تھا۔ انکولہ کے قریب ترقی جات مرکز تعمیر کرنے کا بھی طئے کیاگیا تھا۔ لیکن اب متعلقہ منصوبہ رد کئے جانےکی بات کہی جارہی ہیں ایسے میں بنیادی سہولیات ترقی محکمہ کے جنرل سکریٹری کپل موہن کا کہنا ہے کہ منصوبہ رد نہیں کیاگیا ہے۔ مستقبل میں ہی پتہ لگے گا کہ سچائی کیا ہے۔
شاہراہوں کا کام بھی تعطل کا شکار:اہم شہروں کو جوڑنے اور بندرگاہوں کے درمیان آسان رابطہ پیدا کرنے کی خاطر مرکزی حکومت نے ’ساگر مالا‘ منصوبہ جاری کرتےہوئے کرناٹک کی 8شاہراہوں کو منتخب کیا تھا۔ جن میں ہبلی۔ انکولہ شاہراہ کو 6لائن میں منتقل کرنےکا کام۔ ٹمکور۔ ہوناور شاہراہ کو فورلین میں منتقل کرنےکاکام۔ ہاویری ۔ سرسی ۔ بیلکیری فورلین کا کام مرکزی حکومت منصوبے کے تحت شروع کئے جانے کی جانکاری دی تھی۔ اب یہ تمام ترقی جات کام بھی تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔